دارالسلام ایجوکیشن سسٹم

بنیادی نظام

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کے 6 بنیادی نظام

کسی بھی تعلیمی و تربیتی ادارے کی مثالی کارکردگی کا راز اس کے ایسے مستحکم و مربوط نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے جو طالب علم کے ادارے میں قدم رکھنے سے لے کر اس کے معاشرے کا فعال رکن بننے تک اس کے ہر لمحے پر محیط ہو اور ہر موڑ پر اس کی راہنمائی کرے۔ تعلیم و تربیت کا عمل ایک حساس سفر ہوتا ہے جسے نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھالے بغیر عظیم منزل کا حصول نا ممکن ہوتا ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا شاندار تعلیمی و تربیتی ڈھانچہ 6 بنیادی نظاموں سے تشکیل دیا گیا ہے جو ایک طالب علم کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کو نظم و ضبط، اخلاق و کردار اور بصیرت و فراست سے آراستہ کرتے ہیں۔ ان 6 نظاموں کی مضبوطی کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارے کا ترقی کی منازل طے کرنا ممکن نہیں ہے۔

1. نظامِ داخلہ2. نظامِ تعلیم3. نظامِ امتحانات
4. نظامِ اوقات5. نظامِ تربیت6. نظامِ تعطیلات

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظام داخلہ

واضح رہے کہ نظامِ داخلہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ترقی و ارتقاء میں بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ دروازہ ہے جس سے طلبہ اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اگر داخلے کا نظام منظم، شفاف اور اصولوں پر قائم ہو تو پورا نظام مضبوط و مستحکم رہتا ہے اور ادارہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ داخلہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے جس میں سفارش کی بجائے میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد محنتی، ذہین، سنجیدہ اور حصولِ علم کا جذبہ رکھنے والے طلبہ ہی کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ تعلیم

کسی بھی تعلیمی ادارے کا نظامِ تعلیم اس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ادارے کی مضبوطی اور کمزوری کا انحصار اسی نظام پر ہوتا ہے۔ اس نظام میں تعلیمی مقاصد و اہداف، نصاب کی پلاننگ، تدریسی طریقہ کار، نتائج کی منصوبہ بندی، فنی کورسزکا اہتمام، جامع لائبریری کا قیام، مطالعہ کا جامعہ لائحہ عمل، تعلیم کی خصوصیات، امتیازات کی درجہ بندی اور طلبہ کی جملہ سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ میں نظامِ تعلیم کے دو بنیادی حصے ہیں:‚تاسیسی (Foundation) جو تین سالوں پر مشتمل ہے۔ اس میں بنیادی علوم و فنون میں پختگی پیدا کی جاتی ہے۔ ƒتطبیقی اور فنی (Advanced Study) جو پانچ سالوں پر مشتمل ہے۔ اس میں علوم وفنون کو تطبیقی اور ارتقائی مراحل سے گزار کر تخصص (Specialization) کے لیے مطلوب درجے تک پہنچایا جاتا ہے۔

نظام تعلیم کے تحت تین شعبے قائم کیے گئے ہیں: 1- شعبہ علوم اسلامیہ 2- شعبہ علومِ عصریہ 3- شعبہ تجوید و قراءت

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ امتحانات

نظامِ امتحانات ہی نظامِ تعلیم کی مضبوطی کا ضامن ہے۔ جتنا نظامِ امتحان مضبوط ومربوط ہو گا،اسی قدر نظامِ تعلیم شاندار نتائج کا حامل ہو گا۔ نظامِ تعلیم میں اس کا کلیدی اور بنیادی کردار ہوتا ہے۔ علمی مضبوطی کا معیار اس ادارے کا نظام امتحان ہی متعین کرتا ہے۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ نظام تعلیم کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے اور اس حوالے سے مختلف ورکشاپس، میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ماہر تعلیم شیوخ الحدیث اور سینئر اساتذہ سے مشاورت کا عمل جاری رہتا ہے، ان کی قیمتی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام امتحان میں مناسب تبدیلی کر دی جاتی ہے۔

 الرحمہ انسٹیٹیوٹ میں بنیادی طور پر   دوتعلیمی نظام موجود ہیں: ‚ علوم اسلامیہ علوم عصریہ۔ اسی لحاظ سے دو نظامِ امتحانات مقرر و متعین ہیں۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ اوقات

کم وقت میں کثیر مقاصد کا حصول حقیقی ٹائم مینجمنٹ ہے۔ سنجیدہ اور بامقصد اداروں میں نظامِ اوقات نہایت اہمیت کا حامل ہے۔تعلیمی ادارے کے اعلیٰ نتائج یا کمزور نتائج کا دارومدار اسی نظام پر ہے، گویا یہ باقی تمام نظاموں کے لیے ’’میزان‘‘ کا درجہ رکھتا ہے۔ الرحمہ کا شیڈول یہ ہے کہ یہاں طلبہ فجر کی اذان سے نصف گھنٹہ قبل بیدار ہو جاتے ہیں اور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد تلاوت، ورزش، سکول کی کلاسز، صفائی، یونیفارم، ناشتہ، اسمبلی، علومِ اسلامیہ کی کلاسز، نمازِ عصر کے بعد عربی گرامر کا اجراء، کھیل اور نمازِ مغرب اور نمازِ عشاء کے بعد رات 10:30 تک علومِ اسلامیہ کا مطالعہ ہوتا ہے۔

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ تربیت

علم کا مقصد اس پر عمل کرنا ہے اور اس عملی صورت کو ’’تربیت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حقیقی علم کے حامل مضبوط عمل والے لوگ ہی مدارس کا گوہرِ نایاب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے الرحمہ انسٹیٹیوٹ ہر لحظہ مستعد اور کوشاں ہے جہاں تربیتی اسلوب میں بہتری لانے کے لیے اور طلبہ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے کئی صلاحیتیں اور مہارتیں پیدا کی جاتی ہیں۔ اس نظام کے دو حصے ہیں:

  • ایمانی و روحانی تربیت   
  • فنی تربیت

الرحمہ انسٹیٹیوٹ کا نظامِ تعطیلات

یہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا اہم رکن ہوتا ہے۔ اس میں جس قدر پابندی ہو گی، اسی قدر سسٹم میں مضبوطی آئے گی۔ الرحمہ کا نظامِ تعطیلات ماہرینِ تعلیم کی ماہرانہ صلاحیتوں کا نچوڑ ہے۔ ہفتہ وار صرف جمعے کے دن بعد از فجر تا مغرب تعلیمی سلسلہ موقوف ہوتا ہے تاکہ طلبہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ ادارتی طور پر طے شدہ شیڈول کے مطابق ہر ماہ جمعرات ظہر سے اتوار مغرب تک تین ماہانہ تعطیلات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر سات آٹھ تعطیلات ہوتی ہیں اور رمضان المبارک میں تعلیم میں معاون اہم علمی دورہ جات کرائے جاتے ہیں۔ آٹھ سالہ تعلیمی دورانیے میں ہر طالب علم کے لیے مختلف تین سالوں میں چھ موضوعات پر مشتمل تین ’’علمی دورہ جات‘‘ میں شرکت کرنا لازمی ہے۔