پیپر حل کرنے کے سلسلے میں امتحانی ہدایات
کسی بھی کام سے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے اس کے طریق کار اور اصول و ضوابط کو سامنے رکھنا ضروری ہے، زمین و آسمان کا نظام چھ دنوں میں بنانے، سورج اور چاند کا اپنے مقررہ وقت اور مدار میں چلنے اور نماز میں ایک ساتھ ایک امام کے پیچھے رکوع اور سجدے کرنے میں ایک حکمت کار فرما ہے۔
- بعض طلباء ذہین اور محنتی ہوتے ہیں، مگر امتحان میں اچھے نمبر حاصل نہیں کر پاتے، اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ پیپر حل کرنے کے اصول و ضوابط کو سامنے نہیں رکھتے۔
- امتحان میں کامیابی اور پیپر میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے درج ذیل اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:
پیپر حل کرنے سے پہلے کے کام
پیپر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کیے جانے والے کام
- پیپرسے متعلقہ تمام چیز وں کا مناسب اور وافر بندوبست کریں، قلم، پنسل، مار کر، سکیل وغیرہ، یہ تمام چیز یں معیاری اور اپنی ہونی چاہیے، غیر معیاری چیز وں اور مانگنے سے پرہیز کریں۔
- پیپرسے پہلے والی رات مکمل رات پڑھنے کی بجائے کچھ وقت نیند ضروی ہے تاکہ پیپر کے دوران نیند نہ آئے۔
- پیپرکا وقت شروع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے پڑھنا چھوڑ دیں تاکہ دماغ کو آرام مل جائے اور وہ تروتازہ رہے۔
- کمرہ امتحان میں جانے سے پہلے اپنے آپ کو مکمل طور پر فریش رکھیں، اپنی محنت پر مطمئن رہیں اور امتحان کو اپنے اوپر اس طرح سوار نہ کریں کہ دماغ ہی ماؤف ہو جائے۔
- پیپرسے ایک رات پہلے نئی چیز یں یاد کرنے کی بجائے صرف سابقہ پڑھی ہوئی چیزیں دہرائیں۔
- کمرہامتحان میں آنے سے پہلے مناسب یہی ہے کہ موسم کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہائیں، سر پر تیل لگائیں، صاف ستھرا لباس پہنیں، خوشبو لگائیں تاکہ دماغ معطر اور تروتازہ رہے اور کسی قسم کی تھکاوٹ نہ ہو۔
- امتحان کے دنوں میںمتوازن غذا لیں۔
- ذہن کو تروتازہ رکھنے کے لیےمناسب وقت کے لیے سیر و تفریح کریں۔
کمرہ امتحان میں آنے پر کیے جانے والے کام:
- پیپرکا وقت شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے کمرہ امتحان میں آجائیں۔
- کمرہ امتحان میںباوضو ہو کر آئیں اور دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی دعا کریں۔
پیپر کا وقت شروع ہونے کے بعد کیے جانے والے کام:
- جوابیکاپی ملنے پر اس کی پیشانی اچھی طرح فِل کریں، سب سے پہلے کلاس، رول نمبر، مضمون اور تاریخ لکھیں۔
- جوابیشیٹ پر اگر حاشیہ نہ لگا ہوا ہو تو ایک طرف مناسب حاشیہ لگائیں، نہ بہت ہی کم اور نہ بہت زیادہ جگہ چھوڑیں، انگلش میں حل کرنا ہو تو پیپر کے بائیں جانب اور اردو یا عربی میں حل کرنا ہو تو دائیں جانب صرف ایک انچ جگہ چھوڑیں، ہاں اگر رف لکھنے کی ضرورت ہو تو دوسری جانب بھی حاشیہ لگا لیں اور حاشیہ کی لائنیں بالکل سیدھی اور واضح روشنائی سے لگائیں۔
- حاشیہ،پیپر کو خوبصورت بنانے اور کوئی اضافہ چیز لکھنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی اصل مقصود چیز حاشیہ سے باہر نہ لکھیں۔ بعض طلباء کا سوال اور جواب کی ہائینڈنگ حاشیہ کے باہر لگانا مناسب نہیں ہے۔
- سوالیہپیپر کے ملنے پر اس کو اچھی طرح پوری توجہ سے شروع سے آخر تک پڑھیں، جو اشکا ل ہو یا کوئی چیز سمجھ میں نہ آئے تو ان پر خط لگائیں اور کھڑے ہو کر ایک ہی وقت میں سب پوچھ لیں، بار بار کھڑے ہو کر اپنا وقت ضائع مت کریں۔
- سوالیہپیپر کے دونوں طرف پڑھیں، بعض دفعہ کچھ سوالات پیپر کی دوسری جانب لکھے ہوتے ہیں۔
- سوالیہپیپر کو پڑھ کر ہر سوال کے لیے اپنا وقت تقسیم کر لیں تاکہ وقت کے اندر تمام مطلوبہ سوال حل کیے جا سکیں، کوئی سوال اس لیے نہ رہ جائے کہ وقت ختم ہو گیا ہے۔
اب پیپر حل کریں
- سب سے پہلے وہ سوال حل کریںجو آپ کو اچھی طرح یاد ہو اور آپ اسے بہت آسان سمجھتے ہوں، اس سے آپ کے ذہن پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہو گا اور آپ ممتحن کے لیے بھی ایک اچھا تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
- پہلے مختصر جوابات والے سوالات حل کریں،پھر لمبے سوال حل کریں۔
- جو سوال مکمل یادنہ ہو، اس کو آخر میں حل کریں۔
- کاٹ چھانٹ سے مکمل گریزکریں تاکہ پیپر بھدا نہ لگے، لکھنے سے پہلے تسلی کر لیں کہ درست لفظ کیا ہے، پھر لکھیں۔
- جو سوال سب سے پہلے حل کریںاسی کا نمبر جوابی شیٹ پر ڈالیں، مثلاً: اگر آپ نے سوال نمبر 4 سب سے پہلے حل کرنا ہے توجوابی شیٹ پربھی سوال نمبر 4 ہی لکھیں۔
- جواب لکھنے سے پہلے سوال کو اچھیطرح سمجھیں، جتنا سوال پوچھا جائے اتنا ہی جواب دیں، غیر ضروری تفصیل سے اجتناب کریں۔
- جب سوال کا جواب مکمل ہو جائے اس کے نیچےچھوٹی سی لائن لگا کر اس کے اختتام کو واضح کریں۔
- پیپرکی ظاہری خوبصورتی کا ضرور خیال کریں، یہ چیز نمبروں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ پیپر کا ظاہری حلیہ آپ کے ذوق کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے، جس سے ممتحن متاثر ہو کر اچھے نمبر دینے کا ذہن بنا لیتا ہے۔
- پیپرحل کرتے ہوئے ممتحن کی ہر ممکن سہولت کا خیال رکھیں، اسے ٹینشن میں نہ ڈالیں، بعض ممتحن پیپر چیکنگ میں وقت مقرر کر لیتے، اگر پیپر کا ظاہری حلیہ اور ترتیب سیدھی ہو تو اچھے نمبر دے گا اور اگر پیپر صاف ستھرا اور مرتب نہ ہو تو نمبر ضرور کاٹ لے گا۔
- عربیکے وہ سوالات جن کا ترجمہ یا تشریح مطلوب ہو، ان کی عربی عبارت جوابی شیٹ پر نہ لکھیں، صرف ترجمہ یا تشریح کا عنوان لگا کر ترجمہ یا تشریح لکھیں۔
- ’’اعراب لگائیں،‘‘مشَّکل کریں،‘‘ ’’تشکیل کریں‘‘ کا ایک ہی مطلب ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ عبارت جوابی شیٹ پر خوبصورت کر کے لکھیں اور الگ روشنائی سے اعراب لگائیں۔
- تعریفاتاور قواعد کی مثالیں ضرور دیں، اگرچہ مطلوب نہ ہوں۔
- خالیجگہ الگ روشنائی سے پُر کریں۔
- الفا ظ معانیاور مفرد جمع الگ الگ لائن میں یا کالم بنا کر لکھیں۔
- مفردات کو جملوں میںاستعمال کرنے کے لیے دو کالم بنائیں، پہلے کالم کو مفردات کے لیے چھوٹا رکھیں اور دوسرا بڑا کریں اور الگ الگ روشنائی سے لکھیں۔
حصہ معروضی حل کرنے کا طریقہ
- خالیجگہ، غلط درست کی نشاندہی سوالیہ پیپر کے اوپر ہی حل کریں تاکہ وقت بچ جائے۔ اس صورت میں سوالیہ پیپر پر اپنا رول نمبر لکھنا نہ بھولیں، اور اسے اصل کاپی کے ساتھ منسلک ضرور کریں۔
- مختصر سوالات کے جوابات، کالم، معانیوغیرہ جوابی شیٹ پر لکھیں۔
- معروضیحل کرتے وقت ریمو ور یا وائیٹنر استعمال نہ کریں اور نہ ہی کوئی جواب کاٹ کر لکھیں، اگر کوئی لفظ رف کے طور پر کچی پنسل سے لکھا ہوا ہو تو اسے مٹا کر نیلی یا کالی روشنائی سے لکھیں۔
- جس کسیلفظ کے متعلق شبہ ہو تو اسے رف کے خانے میں لکھ کر چیک کیا جا سکتا ہے۔
- اگر معروضیسوال کا جواب نہ آتا ہو تو اسے چھوڑنے کی بجائے ضرور حل کریں، ہو سکتا ہے کہ آپ کا جواب درست ہو جائے۔
حصہ انشائیہ حل کرنے کا طریقہ
- اردو اور عربیکا پیپر حل کرتے وقت دائیں جانب سے لکھنا شروع کریں۔
- سوال اور جواب کیسرخی جلی قلم یا مار کر سے لگائیں۔
- سوال اور جواب کیسرخی صفحہ کے دائیں جانب بالکل ایک سیدھ میں اوپر نیچے لگائیں، وہ لکھنے میں آگے پیچھے نہ ہوں۔
- لفظ سوال اور جواب کے سامنے اس طرح: دو نقطے لگائیں۔
- سوال اور جواب کیلائن کو چھوڑ کر نئی لائن سے لکھنا شروع کریں، نئی لائن وہاں سے شروع کریں، جہاں لفظ سوال اور جواب ختم ہوا تھا۔
- ہر لمبے سوال کے جواب کو تینحصوں میں تقسیم کریں: (1) ابتدائیہ، یعنی جواب کا مختصر تعارف (2) مواد یعنی جواب کی تشریح و توضیح (3) اختتامیہ، یعنی مکمل جواب کا دو تین لائنوں میں خلاصہ، ممتحن کو یہ تاثر دیں کہ جواب جامع اور مانع ہے۔
- جس سوال میںکسی چیز کی اقسام یا تعداد وغیرہ پوچھی جائے اس کے جواب میں وہ چیز یں نمبر لگا کر لکھیں، مثلاً: 1، 2، 3 یا حروف ابجد لکھ کر مثلاً: ا۔ ب۔ ج۔ د وغیرہ، اور اگر ساتھ وضاحت بھی ہو تو ہر نمبر نئی لائن سے شروع کریں۔ یہ نمبر جلی قلم سے ایک ہی سیدھ میں لکھیں۔
- جس سوال کے جواب میںتشریح یا تفسیر مطلوب ہو اسے سرخیوں کے ساتھ لکھیں اور سرخی جلی قلم سے لگائیں، اگر دس نمبروں کا سوال ہے تو کم از کم دس سرخیاں ضرور بنائیں۔ اگر سرخیاں نہ بنا سکیں تو ’’پیرا وائز‘‘ ضرور لکھیں۔
- آیت،حدیث، خاص قول وغیرہ جلی قلم سے لکھیں تاکہ ممتحن کی نظر سیدھی اسی پر پڑے۔
- آیت،حدیث، قول اور شعر نئی لائن میں نمایاں کر کے درمیان میں لکھیں۔
- آیتلکھنے سے پہلےیہ عنوان دیں: ارشادِ باری تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، وغیرہ۔ اس کے آگے اوپر نیچے دو نقطے یعنی کالن (:) لگائیں اور آیت کے لفظوں کے دونوں طرف خوبصورت بریکٹ ﴿……….﴾ لگائیں۔
- حدیثلکھنے سے پہلے یہ عنوان دیں: ارشادِ نبویeہے: نبی کریمe نے فرمایا، وغیرہ۔ اس کے آگے اوپر نیچے دو نقطے یعنی کالن (:) لگائیں اور حدیث کی عربی عبارت کے دونوں طرف ڈبل بریکٹ ’ ……….‘ لگائیں۔
- آیتاور حدیث کے ترجمے کے دونوں طرف ڈبل کوما ’’ ………. ‘‘ لگائیں۔
- بسا اوقات آیتیا حدیث کے ترجمہ کے دس میں سے پانچ یا چھ نمبر ہوتے ہیں اور تفسیر یا تشریح کے صرف چار یا پانچ نمبر ہوتے ہیں، اس لیے ترجمہ واضح، خوبصورت اور صحیح لکھیں، اگر ترجمہ صحیح ہو گا تو عموماً تفسیر اور تشریح کو بھی صحیح سمجھ لیا جاتا ہے۔
- آیتاور حدیث کا حوالہ اگر یاد ہو تو ضرور لکھیں۔ حوالے کے دونوں طرف یہ علامت (……….) لگائیں۔ آیت کا حوالہ سورت کا نام، آیت نمبر لکھیں، اگر یاد نہ ہو تو القرآن لکھ دیں۔ حدیث کا حوالہ حدیث کی کتاب کا نام اور حدیث نمبر یا صرف کتاب کا نام اور اگر کچھ یاد نہ ہو تو الحدیث لکھ دیں۔
- قول لکھتے وقت دونوں طرف ڈبل کوما یایہ علامت [……….] لگائیں۔
- عربیشعر لکھتے وقت دونوں مصرعے ایک ہی لائن میں لکھیں، درمیان میں مناسب فاصلہ رکھیں اور اردو شعر لکھتے وقت دونوں مصرعے اوپر نیچے دو لائنوں میں لکھیں، اور دونوں سطروں میں مصرعوں کا آغاز اور اختتام برابر ہو۔
- اگر جواب پچاس فیصدصفحے پر لکھا جا چکا ہے تو اس کے آخر میں لائن لگا کر اگلا سوال نئے صفحے سے شروع کریں، ورنہ لائن لگانے کے بعد اگلا سوال اسی صفحے سے شروع کر دیں۔
- ہر سوال کا جواب ایکجگہ ہی مکمل لکھیں، مختلف جگہ پر لکھ کر ممتحن کو پریشان نہ کریں۔
- پیپرکی مقدار کو زیادہ شو کرنے کے لیے لکھتے وقت ایک ایک لائن چھوڑ کر نہ لکھیں البتہ جہاں ضرورت ہو وہاں لائن چھوڑی جا سکتی ہے۔
- ہر اضافیشیٹ پر اپنا امتحانی رول نمبر ضرور لکھیں اور اسے ترتیب کے ساتھ اصلی کاپی کے ساتھ منسلک کریں اور پہلے صفحے پر اضافی شیٹس کی تعداد ضرور لکھیں۔
- روشنائیصرف نیلی اور کالی استعمال کریں۔
- وقت ختم ہونے سے دس منٹ پہلے لکھنے کا کام مکمل کر لیں،اب پیپر کی اچھی طرح نظرِثانی کریں، سوالوں کی تعداد اور سرخیاں چیک کریں، بالخصوص اجزاء پورے کریں، اضافی شیٹس کی ترتیب چیک کریں۔
- مقررہ وقت سے پہلے پیپرمت جمع کروائیں۔
- آخر میںجوابی شیٹ کے خالی حصہ پر کراس کر دیں۔